Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت کے اعتبار سے انڈیا کی مداخلت کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ ایک غیر حقیقت پسندانہ سیاست کا فطری انجام تھا جو اپنے وقت پر پیش آیا۔ مگر پاکستانی لیڈروں کے ذہن میں سبق سکھانے کا تصور اتنا زیادہ چھایا ہوا تھا کہ اس واقعہ سے وہ اصل مطلوب سبق نہ لے سکے۔ چنانچہ اس کے بعد بھی وہ بار بار نہایت سنگین قسم کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست میں مبتلا ہوئے اور اس کے بھیانک انجام سے دوچار ہوتے رہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان میں جنگجوؤں کی پرورش ہے جو انہوں نے ”عظیم تر پاکستان“ کے خیالی تصور کو واقعہ بنانے کے لیے کی۔ اگرچہ اس کا بھی فطری انجام یہی ہوا کہ پاکستان ہر اعتبار سے ایک دیوالیہ ملک بن کر رہ گیا۔ عملی طریقہ ایک مسلمان طالب علم سے ملاقات ہوئی۔ ان کے سر کے بال منڈے ہوئے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ جس مدرسے میں پڑھتے ہیں ان کے ناظم نے ان کے اور دوسرے طالب علموں کے سر کے بال منڈوا دیے ہیں۔ ناظم صاحب نے وجہ یہ بتائی کہ مجھ کو بڑے بڑے بال اچھے نہیں لگتے۔ میں نے پوچھا کہ جن طلبہ کے سر کے بال منڈواۓ گئے انہوں نے کچھ احتجاج ، وغیرہ کیا۔ مذکورہ طالب علم نے بتایا کہ نہیں طلبہ نے اس کو بہت زیادہ برا مانا لیکن وہ اس پر خاموش رہے۔ اس لیے کہ اگر وہ احتجاج کرتے تو مدرسہ سے ان کا اخراج کر دیا جاتا۔ اصولی اعتبار سے دیکھا جائے تو ناظم صاحب کا طلبہ کے سر کے بال منڈوانا طلبہ کے لیے ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ مگر ان طلبہ نے ایسا نہیں کیا کہ وہ بال منڈوانے کے معاملہ کو اصولی اور نظری معیار پر جانچیں۔ بلکہ وہ سب اس معاملہ میں عملی (پریکٹیکل ) بن گئے ۔ ایک معاملہ جو نظری بنیاد پر قابل قبول نہ تھا اس کو انہوں نے عملی بنیاد پر قبول کر لیا۔ غور کیجیے تو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں یہی کرتا ہے۔ وہ معاملہ کے نظری پہلو پر اصرار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page