مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ کرتے ہوئے بھی عملی بنیاد پر اس کو ماننے کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔ مگر انہی افراد کا حال یہ ہے کہ جب معاملہ قومی اور ملی ہو تو وہ فوراً اس کو نظری اور اصولی اعتبار سے شروع کر دیتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ عملی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلے کو ختم کر دیں۔ لوگوں میں تضاد کیوں ہے کہ وہ اپنے انفرادی معاملہ میں حقیقت پسند ہوتے ہیں اور جب ملت کا معاملہ ہو تو وہ غیر حقیقت پسند بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب لوگوں میں ذہنی بیداری کا نہ ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی اس کے نفع اور نقصان کو خود بھگت رہا ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی سوچ کے بغیر صرف ذاتی تجربہ کی بنیاد پر صحیح رائے تک پہنچ جاتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں رائے قائم کرنے کے لیے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ ذاتی تجربہ کی تلخی اور شیرینی اس کا رویہ متعین کرنے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ یہ عین وہی معاملہ ہے جو ہر حیوان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر حیوان اپنے ذاتی معاملہ میں جان لیتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ مگر دوسرے کے معاملہ میں وہ اس کو جان نہیں پاتا۔ کیوں کہ دوسرے کے معاملے کو جاننے کے لیے فہم درکار ہے جو کہ حیوان میں نہیں ہوتی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کے درمیان کوئی ایسی تحریک نہیں اٹھی جو ان کے اندر ذہنی بیداری پیدا کرے۔ جوفن تفکیر ( art of thinking) کے اصولوں کی روشنی میں ان کی ذہنی تربیت کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کی مسلم نسلیں فکری ارتقاء سے محروم ہیں۔ لوگ بس حیوانی سطح پر جی رہے ہیں، ذہنی ارتقاء یا فکری عمل (thinking process) کی انہیں خبر ہی نہیں۔ اقدام نتیجہ خیز ہونا چاہیے بنی اسرائیل کے اندر پیش آنے والے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے زمانے میں پیش آیا۔ قرآن کے مطابق، ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader