مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی قوم کے اوپر حضرت ہارون کو ذمہ دار بنا کر کچھ دنوں کے لیے طور پہاڑ پر چلے گئے۔ اس دوران بنی اسرائیل نے انہیں روکا مگر قوم کی طرف سے شدت دیکھ کر وہ اس معاملہ میں خاموش ہو گئے۔ مگر جب حضرت موسیٰ واپس آئے تو انہوں نے اس مصنوعی بچھڑے کو توڑ کر پھینک دیا اور مجرمیں کو سزا دی (7:148، 97: 20:85)۔ یہاں یہ سوچنے کی بات ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے عمل میں یہ فرق کیوں تھا۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت ہارون نے کھلے ہوئے شرک کے ایک معاملہ کو عملاً برداشت کیا جبکہ حضرت موسیٰ نے اس کو توڑ کر اور جلا کر ختم کر دیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ہارون نے غور وفکر کے بعد یہ جانا کہ اگر وہ عملی اقدام کرتے ہیں تو ایک گروہ ان کا ساتھ دے گا اور دوسرا گروہ بچھڑا پوجنے والوں کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح قوم دو گروہوں میں بٹ کر باہمی لڑائی شروع کردے گی، مگر حضرت موسیٰ کے عمل کی صورت میں یہ اندیشہ نہ تھا۔ حضرت موسیٰ کو قوم میں غالب حیثیت حاصل تھی۔ اس بنا پر یہ ممکن تھا کہ وہ قوم میں جس فیصلہ کو چاہیں نافذ کریں۔ اس واقعہ پر غور کرنے کے بعد یہ اصول ملتا ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result-oriented) ہونا چاہیے۔ اگر عملی اقدام نہیں کرنے سے نتیجہ مطلوب صورت میں نکلنے والا ہو تو عملی اقدام کیا جائے گا اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ عملی اقدام سے حالات بگڑ جائیں گے اور ایک برائی کی جگہ دو برائی پیدا ہو جائے گی تو عملی اقدام نہ کیا جائے گا۔ ذہنی تناؤ جدید صنعتی دور نے انسانی زندگی کو بعض نئی قسم کی پیچیدگیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ چیزیں ابتدائی درجہ میں موجود تھیں مگر موجودہ انتہائی درجہ میں ان کا تجربہ انسان کو پہلی بار ہوا ہے۔ انہی میں سے ایک نمایاں مسئلہ وہ ہے جس کو ذہنی تناؤ (mental tension) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader