مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
پیس آف مائنڈ کے ڈسٹرب ہونے کا سبب زیادہ تر وہ چیز ہوتی ہے جس کو ٹینشن یا اسٹریس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی بھی شخص کے لیے ٹینشن اسٹریس سے بچنا ممکن نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں کیا کیا جائے۔ مگر میں کہوں گا کہ ٹینشن یا اسٹریس کوئی برائی (evil) نہیں۔ بلکہ وہ انسان کے لیے ایک نعمت (boon) کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ اگر آدمی کے اندر منٹل ٹینشن نہ ہو تو اس کے اندر برین اسٹارمنگ نہیں ہوگی۔ اور اگر برین اسٹارمنگ نہ ہو تو مائنڈ کے اندر وہ سرگرمیاں (activities) پیدا نہیں ہوں گی جو اعلیٰ اٹلیکچول ڈیولپمنٹ کا واحد ذریعہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹینشن اور اسٹریس کا یہ کوئی صحت مند حل نہیں ہے کہ اس کو روکنے کی کوشش کی جائے یا اس کو مکمل طور پر باد دینے کی کوشش کی جائے۔ اس قسم کا حل ایک قسم کی ذہنی تخدیر (intellectual anesthesia) ہے۔ ایسی تخدیر ذہنی ترقی کے عمل کو روک کر انسان کو حیوانی سطح پر لے جانے کے ہم معنی ہے۔ So the solution lies in managing the crisis/ tension and not in suppressing it. معیار کا فرق ایک صاحب نے میری تحریروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر آپ کی تحریروں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک طرف سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ لوگ بلاشبہ مخلص تھے۔ مگر اسی کے ساتھ آپ یہ لکھتے ہیں کہ 1831ء میں انہوں نے پنجاب میں جو جہاد کیا وہ ایک غیر دانش مندانہ اقدام تھا۔ ایک طرف آپ شہیدین کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ ان کی تنقید کرتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader