Urdu book · مسائلِ اجتہاد

معیار کا فرق

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ یہ تضاد کی بات نہیں ہے بلکہ یہ فکری معیار کے فرق کی بات ہے۔ آپ لوگوں کا فکری معیار یہ ہے کہ آپ جن افراد کو اکابر کا درجہ دے دیں، ان کے بارے میں آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے، انہوں نے جو کچھ کہا یا کیا وہ سب درست تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے مزعومہ اکابر کے بارے میں اگر کوئی جزئی تنقید بھی کی جائے تو آپ لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ اپنے معیار کے مطابق، آپ اپنے اکابر کو صرف قابل تعریف سمجھتے ہیں، قابل تنقید نہیں۔ اس کے مقابلے میں دوسرا معیار وہ ہے جس کو علمی معیار کہا جاتا ہے۔ علمی معیار پر اسرار شخص تقدس پر قائم نہیں ہوتا، وہ معلوم اور ثابت شدہ حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی معیار میں تحلیل اور تجزیہ کا طریقہ رائج ہے۔ علمی معیار کے مطابق، داخلی نیت ایک الگ چیز ہے اور خارجی عمل اس سے مختلف دوسری چیز۔ یہ علمی معیار شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسی بنا پر حدیث میں آیا ہے کہ اگر آدمی کی نیت درست ہو تو اجتہادی خطاء پر بھی اس کو ایک درجہ کا ثواب ملے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352)۔ میرا طریقہ یہی علمی معیار والا طریقہ ہے۔ میں شخصی تقدس کے نظریہ کو درست نہیں سمجھتا۔ میں شخصیتوں کا تجزیہ خالص حقائق کی روشنی میں کرتا ہوں۔ اس تجزیاتی طریق مطالعہ نے مجھے بتایا کہ سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید بلاشبہ مخلص لوگ تھے۔ مگر 1831ء میں انہوں نے پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جو مسلح جہاد کیا، اس میں بیک وقت دو کمیاں شامل تھیں — ناقص تیاری اور حالات سے بے خبری۔ سید اسماعیل شہید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب جہاد کا فیصلہ ہوا تو انہوں نے جہاد کی تیاری شروع کردی۔ اس وقت وہ دہلی میں تھے۔ گرمی کے زمانہ میں وہ دہلی کی جامع مسجد کے پتھر کے فرش پر ننگے پاؤں چلتے تھے۔ اس کو وہ جہاد کی تیاری سمجھتے تھے۔ ان کا یہ عمل ان کے قلبی اخلاص کا ثبوت تو ضرور ہوسکتا ہے مگر اس کا کوئی تعلق مہاراجہ رنجیت سنگھ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page