Urdu book · مسائلِ اجتہاد

بے بنیاد سوچ

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی دوسرے دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامُرادوں میں سے ہوگا۔ اس طرح کی آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا سچا اور برحق ہونا آج بھی ایک معلوم اور مسلّم حقیقت ہے۔ مگر جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، ان کی حیثیت اس اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ کوئی شخص جو اسلام کا دعویٰ کر رہا ہے یا کوئی گروہ جو اپنے آپ کو اسلامی گروہ بتاتا ہے اس کا اسلام صرف آخرت میں معتبر اور محقق ہوگا، موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو اندیشہ اور امید کے درمیان جینا ہے۔ جیسا کہ قدیم علما کا قول ہے کہ— اَلْإِيْمَانُ بَيْنَ الرَّجَاءِ وَالْخَوْفِ۔ اب ہندو کے معاملہ کو لیجیے۔ یہ نظریہ کہ ہر مذہب سچا ہے، ایک غیر علمی اور غیر منطقی نظریہ ہے۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کسی کے نزدیک خدا ایک ہے اور کسی کے نزدیک وہ متعدد ہے۔ کوئی پرسنل گاڈ میں یقین رکھتا ہے اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا ایک سرایت کی ہوئی اسپرٹ (pervading spirit) ہے، جس کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں۔ کوئی پیغمبری کو مانتا ہے اور کوئی ابنیت خدا کو وغیرہ وغیرہ۔ مذاہب کے درمیان اس قسم کے بنیادی اختلافات موجود ہیں، ایسی حالت میں ہر مذہب کو یکساں بتانا ایک دعویٰ ہے جس کے لیے کوئی علمی اور منطقی اساس موجود نہیں۔ مزید یہ کہ ”ہر مذہب سچا ہے“ کا نظریہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ اور سچائی کبھی تعدد کو قبول نہیں کرتی۔ سچائی وہی ہے جو ایک ہو، جو سچائی کئی ہو وہ سچائی بھی نہیں۔ مذہب کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو یقین اور اعتماد عطا کرے۔ وہ اس کے لیے جینے کا غیر متزلزل سہارا ہو۔ جو بحران کے لمحات میں اس کے لیے بھروسہ بن سکے۔ یہ مقصد صرف ایک سچائی کے تصور سے پورا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ آدمی صرف کسی ایک سچائی پر اپنے ذہن کو مرتکز کرسکتا ہے، نہ کہ کئی سچائیوں پر۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کہنے میں خوب صورت معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page