Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتی ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بے معنی ہوتی ہیں۔ وہ گرامر کے اعتبار سے درست اور حقیقت کے اعتبار سے غلط۔ ذہنی ترقی میں رکاوٹ دہلی کے ایک اردو ماہنامہ میں دعوتِ اسلام کے موضوع پر ایک تبصرہ چھپا ہے۔ صاحبِ تحریر کا ایک پیراگراف یہ ہے۔ ”تحریک اسلامی کے ایک ممتاز، بلند پایہ رہنما نے بڑی اچھی بات کہی کہ موجودہ جدید جمہوری آزاد ہندوستان میں، دارالكفر اور دار الاسلام کی فقہی اصطلاحوں میں نہ پڑیے، یہ پورا ملک دار الدعوہ ہے اور یہ امت مسلمہ امت دعوت ہے“ (زندگی نو، مارچ 2002ء، صفحہ 72)۔ اس عبارت میں مذکورہ رہنما کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رہنما سے مراد کون صاحب ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کے بارے میں دار الدعوہ کا لفظ پہلی بار راقم الحروف نے استعمال کیا۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ مجھ سے پہلے کسی نے ہندوستان کو دار الدعوہ کہا ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے پہلے مسلم رہنماؤں میں سے کسی نے ہندوستان کو دار الكفر کہا، کسی نے دار الحرب کہا، کسی نے دار الطاغوت کہا، کسی نے دار الامن کہا۔ مگر کوئی بھی شخص ہندوستان کو دار الدعوہ نہ کہہ سکا تھا۔ ہندوستان کے لیے دار الدعوہ کا لفظ پہلی بار میں نے استعمال کیا۔ اور اس کے حق میں شرعی دلائل فراہم کیے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ مضمون نگار کے نزدیک وہ کون شخص ہے جس نے بتایا کہ ہندوستان دار الدعوہ ہے۔ اگر وہ جانتے ہیں کہ یہ کام راقم الحروف نے کیا ہے، پھر بھی انہیں میرا نام لینا پسند نہیں تو یہ ایک قسم کی ذہنی بزدلی ہے۔ اور اگر وہ اپنے حلقے کے کسی بزرگ کو فرضی طور پر یہ کریڈٹ دینا چاہتے ہیں تو یہ بدترین قسم کی گروپرستی ہے۔ دونوں حالتوں میں یہ حقائق پر مصلحت کو ترجیح دینا ہے۔ اس کے سوا اس کی کوئی اور توجیہ ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page