Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کی کمزوری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کمزوری کا سب سے بڑا نقصان کسی دوسرے کو نہیں پہنچتا بلکہ خود اس شخص کو پہنچتا ہے جو ایسی کمزوری میں مبتلا ہو۔ اس کو اپنی اس کمزوری کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا ذہنی ارتقاء رک جائے ۔ اس قسم کی کمزوری آدمی کے ذہن کو بند ذہن بنا دیتی ہے ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بند ذہن کسی آدمی کے ذہنی اور فکری ارتقاء میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ذہنی ارتقاء کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ارتقا یافتہ ذہن ہی کو وہ اعلیٰ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے ۔ اور معرفت کا نہایت گہرا تعلق دینی فہم سے ہے ۔ معرفت کے بغیر علم صرف معلومات، اور معرفت کے ساتھ علم بصیرت کا خزانہ ۔ امن کس لیے امن کی تعریف اہل علم حضرات اس طرح کرتے ہیں کہ امن عدم جنگ (absence of war) کا نام ہے ۔ مگر وہ لوگ جو مختلف مقامات پر حق اور انصاف کے حصول کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں وہ اس تعریف کو نہیں مانتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ امن برائے امن کوئی چیز نہیں ۔ ان کے نزدیک امن وہ ہے جو امن مع انصاف (peace with justice) ہو، نہ کہ امن بغیر انصاف (peace without justice) ۔ یہ سوچ ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔ انصاف امن کا نتیجہ نہیں ہے۔ انصاف خود طالب انصاف کے عمل کا نتیجہ ہے۔ امن کے ذریعہ وہ معتدل حالات پیدا ہوتے ہیں جو مواقع کے استعمال کو ممکن بناتے ہیں ۔ جنگ کی حالت مواقع (opportunities) کے استعمال میں رکاوٹ ہے۔ امن کی حالت قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مواقع کی راہ سے یہ رکاوٹیں ختم ہو جائیں تاکہ ان کو استعمال کر کے اپنا مطلوب حق یا اپنا مطلوب انصاف حاصل کیا جا سکے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page