Urdu book · مسائلِ اجتہاد

میدان عمل کی تبدیلی

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہے کہ جب مکہ میں اہلِ اسلام کے لیے احوال سخت ہو گئے تو اللہ نے حکم دیا کہ تم مکہ سے نقل مکانی کر کے عرب کے دوسرے شہر یثرب چلے جاؤ۔ وہاں تم کو مکہ کے مقابلے میں موافق حالات ملیں گے، یہاں تک کہ وہ اسلام کا مرکز بن جائے گا اور لوگ اس کو یثرب کے بجائے مدینۃ الرسول یا مدینۃ الاسلام کہنے لگیں گے۔ موجودہ دنیا میں عملی کامیابی کا یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ اس اصول کو ہجرت کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مقام پر تم کو موافق حالات نہ مل رہے ہوں تو تم وہاں سے نکل کر دوسرے مقام پر چلے جاؤ۔ ٹکراؤ کے طریقے سے مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو تو مفاہمت کے طریقے سے اپنا مقصد حاصل کرو۔ تشدد کے ذریعے کامیابی نہ مل رہی ہو تو امن کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اپنے تقلیدی ذہن کی بنا پر اس عظیم حکمت کو دریافت نہ کر سکے۔ اس کے نتیجے میں انہیں زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ مثلاً وہ مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے پرتشدد تحریکیں چلا رہے ہیں جس کے نتیجے میں مسلمان بے شمار جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ مگر اپنے تقلیدی ذہن کی بنا پر وہ مذکورہ حکمت نبوی کو دریافت نہ کر سکے۔ حالاں کہ اگر ان کے اندر اجتہادی ذہن ہوتا تو مذکورہ حدیث میں ان کو اس کا حل معلوم ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ پر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کا انداز اختیار کر لیتے اور پھر قانون فطرت کے مطابق، وہ کامیابی کے مرحلے تک پہنچ جاتے۔ مذکورہ مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقلیدی فکر کیا ہے اور اجتہادی نظر کیا ۔ ایک لفظ میں تقلیدی فکر گو یا پہلے زینہ پر رک جانے کا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں اجتہادی فکر اگلے زینوں کو طے کرتے ہوئے اوپر کی منزل تک پہنچ جانا ہے۔ پہلا زینہ اگر چہ ابتدا میں ہوتا ہے مگر اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر پہلا زینہ نہ ہو تو اگلے زینوں کا وجود بھی نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page