Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آدمی کی سوچ یہ ہو کہ وہ فریق ثانی سے امن کا معاملہ کرنے پر صرف اس وقت راضی ہوگا جب کہ امن کے ساتھ ساتھ اس کو انصاف مل رہا ہو، تو آدمی کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ کبھی انصاف۔ ایسا امن اس دنیا میں کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ یہ سوچ ایک غیر فطری چیز ہے جو اس دنیا میں کبھی نتیجہ خیز ہونے والی نہیں۔ صحیح سوچ یہ ہے کہ امن کو مواقع عمل سے جوڑا جائے، نہ کہ حصول انصاف سے۔ امن کو فریق ثانی سے معاہدہ کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے مگر انصاف یا حق کسی کو صرف اپنے عمل سے ملتا ہے، نہ کہ کسی اور کے دینے سے۔ وقت کے پیچھے سوچنا مارچ 2002ء میں مسئلہ فلسطین کے حل کے بارے میں عرب ملکوں کے درمیان ایک نیا نظریہ ابھرا۔ وہ یہ کہ اسرائیل کو باقاعدہ طور پر قبول کرلیں گے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے ایک یہودی سے بات کرتے ہوئے اس کے سامنے یہ تجویز رکھی۔ یہودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عزیز پڑوسی، تم نے بہت دیر کردی۔ Dear Neighbor, you are too late. عرب حضرات کی مذکورہ تجویز بہت اچھی ہے مگر یقینی طور پر وہ قابل عمل نہیں۔ یہ دراصل وقت کے پیچھے سوچنا ہے جو کہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ ایک اردو شاعر نے درست طور پر کہا ہے کہ: ”گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں“ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عربوں کے لیے فلسطین کے معاملہ میں جو چیز 1917 میں ممکن تھی، وہ 1948 میں ناممکن ہو چکی تھی۔ اسی طرح ان کے لیے چیز 1948ء میں ممکن تھی، وہ ان کے لیے 1967 میں ممکن نہ رہی تھی۔ اسی طرح ان کے لیے جو چیز 1967 میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page