مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
ممکن تھی، وہ اب 2002 میں ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ حقیقت خواہ کتنی ہی تلخ ہو مگر وہ ایک تاریخی حقیقت ہے، اور تاریخ کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں، نہ عربوں کے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے۔ 2002ء میں عربوں کے لیے فلسطین کے معاملہ میں جو چیز ممکن ہے وہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ غرہ اور ارجاء کی صورت میں ان کو جو چیز ملی ہے اس کو قبول کرلیں۔ وہ اس حاصل شدہ خطے پر اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اپنے پرجوش رہنماؤں کی غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی کے نتیجہ میں انہوں نے اس حاصل شدہ ٹکڑے کو بھی اپنے لیے مشتبہ بنالیا ہے۔ عربوں کو جاننا چاہیے کہ وہ حماس اور انتفاضہ جیسی پرتشدد تحریکوں کے بل پر کوئی چیز حاصل نہیں کرسکتے۔ منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ حماس اور انتفاضہ جیسی تحریکیں حقیقت کے اعتبار سے تحریکیں نہیں ہیں، وہ صرف جذباتی ردعمل کا مظہر ہیں۔ اور حقائق کی اس دنیا میں سوچے سمجھے عمل کے ذریعہ کوئی نتیجہ نکلتا ہے، نہ کہ جذباتی ابال کے ذریعہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی بنیاد پر کبھی حال کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ حال کا فیصلہ ہمیشہ حال کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ ایک ناقابل تنسیخ تاریخی قانون ہے۔ اس میں کوئی استثناء کبھی ممکن نہیں، نہ ایک قوم کے لیے اور نہ کسی دوسری قوم کے لیے۔ برائی کی جڑ اکثر لیڈر سوچ کی اس غلطی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں جو لوگ سیاسی اقتدار پر قابض ہیں وہی تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اگر ان کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو تمام برائی ختم ہوجائے گی۔ یہ سوچ اپنے تجربہ میں بار بار غلط ثابت ہوئی ہے۔ مصر کی جماعت الاخوان المسلمون نے یہ سمجھا کہ شاہ فاروق کی حکومت ملک کی تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader