برائی کی جڑ
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
خرابیوں کی جڑ ہے۔ اگر کسی طرح اس حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے تو اس کے بعد ملک کا نظام ہر اعتبار سے درست ہو جائے گا۔ اس ذہن کے تحت انہوں نے مصر کے کچھ فوجی افسروں کے ساتھ مل کر شاہ فاروق کی حکومت کو ختم کر دیا اور انہیں ملک سے نکال دیا۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ اسی طرح پاکستان کی جماعت اسلامی نے یہی غلطی مزید اضافے کے ساتھ دہرائی۔ مثلاً صدر محمد ایوب خاں کی حکومت کے زمانے میں انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ ملک کے ساتھ تمام خرابیوں کی جڑ ایوب خاں کی فوجی حکومت ہے۔ انہوں نے اس حکومت کے خلاف ہنگامہ خیز مہم شروع کی۔ یہاں تک کہ صدر ایوب کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر ملکی حالات میں کوئی سدھار نہ ہو سکا ۔ اس کے بعد دوبارہ یہی ہوا کہ انہوں نے فرض کر لیا کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ساری خرابیوں کی جڑ ہے ۔ چنانچہ وہ دوسرے اسلام پسندوں کو ساتھ لے کر مسٹر بھٹو کے سیاسی اقتدار کو اکھاڑنے میں مصروف ہو گئے۔ حتیٰ کہ جنرل ضیاء الحق کی مدد سے مسٹر بھٹو کو پھانسی پر چڑھانے میں کامیاب ہو گئے ۔ مگر ملک کے حالات بدستور بگڑتے چلے گئے ۔ ”برائی کی جڑ“ کے نظریہ کا تجربہ موجودہ زمانے میں بار بار دہرایا گیا ہے مگر ہر بار وہ مکمل طور پر ناکام ہوا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ دوسرے لیڈر بھی بار بار اس غلط فکری میں مبتلا ہوئے۔ مثلاً مہاتما گاندھی نے یہ سمجھا کہ برٹش راج ہندوستان کی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ اسی طرح جے پرکاش نرائن نے سمجھا کہ کانگریسی راج ملک کی ساری خرابی کی جڑ ہے۔ مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے بعد جب برٹش راج اور پھر کانگریسی راج ختم ہوا تو معلوم ہوا کہ ملک کی اصل حالات میں مطلوب تبدیلی نہ ہو سکی۔ پورن سوراج اور پورن کرانتی ملک کی اصل برائیوں (مثلاً کرپشن) میں جزئی اصلاح بھی نہ لا سکے ، پورن سدھار کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے بگاڑ کا تعلق سوچ سے ہے۔ اصلاح کا راز یہ ہے کہ انسانی سوچ میں تبدیلی لائی جائے ۔ انسانی سوچ کو بدلے بغیر کوئی بھی اصلاح ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader