Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرورت ۔ ایسے نعرہ کا سادہ جواب قدیم مثل کے مطابق ، یہ تھا : کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے ۔ یہ ہے صحیح سوچ کا فقدان ۔ صحیح سوچ لوگوں کو مکمل طور پر خونیں فساد سے بچا سکتی تھی ، مگر غلط سوچ نے ان کو ذلت اور نقصان کی دوطرفہ تباہی میں مبتلا کر دیا ۔ غلط سوچ آدمی کو بم کے اوپر بم مارنا سکھاتی ہے ، اور صحیح سوچ اس کو وہ تدبیر بتاتی ہے جس کے ذریعہ وہ بم کو ڈیفیوز (defuse) کرکے اس کو غیر مؤثر بنا دے ۔ سیکنڈری پوزیشن مسجد کی نماز باجماعت میں ہر روز ایک سبق دیا جاتا ہے ۔ وہ سبق یہ ہے کہ دس ہزار نمازیوں میں سے نو ہزار نو سو ننانوے نمازی جب مقتدی بن کے اپنے لیے ثانوی حیثیت (secondary position) کو قبول کرتے ہیں ، اس وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص کی امامت میں نماز باجماعت ادا کی جاسکے ۔ یہی فارمولا مسجد کے باہر کی زندگی کے لیے بھی مطلوب ہے ۔ جس سماج یا گروہ کے اندر یہ مزاج نہ ہو وہاں نہ اتحاد قائم ہوگا اور نہ کوئی ترقی ہو سکے گی ۔ زندگی میں ثانوی حیثیت کو قبول کرنا کسی بھی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ ملی یا اجتماعی زندگی کے لیے یہ مزاج انتہائی طور پر ضروری ہے ۔ مگر یہ مزاج اپنے آپ پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کے لیے شعوری تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کسی قوم میں سب سے زیادہ اہمیت ایسی تحریک کی ہے جو لوگوں میں اس قسم کا مزاج پیدا کرے ۔ شعور کی بیداری اصل کام کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کسی بھی تعمیری تحریک کا نقطۂ آغاز شعور کی تربیت ہے ، نہ کہ پر جوش مظاہرہ یا عملی اقدام ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page