میڈیا کلچر
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
میڈیا کلچر موجودہ زمانہ میں لوگوں کی سوچ میں بگاڑ آیا ہے اس کا غالباً سب سے بڑا سبب وہ جدید ظاہر ہ ہے جس کو میڈیا کلچر کہا جا سکتا ہے۔ جدید میڈیا، خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا، سب کا طریقہ یک طرفہ رپورٹنگ (one sided reporting) کا ہے۔ چونکہ عام لوگ خبروں کو میڈیا کے ذریعہ لیتے ہیں اس لیے لوگوں کی رائے ہر معاملہ میں ناقص ہو گئی ہے۔ وہ یک طرفہ سوچ کے تحت رائے قائم کرتے ہیں۔ اس یک طرفہ رپورٹنگ کا اصول یہ ہے کہ بری خبروں کو لو اور اچھی خبروں کو چھوڑ دو۔ میڈیا کی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔ اور انڈسٹری ہونے کے اعتبار سے اس کے لیے یہی مفید طریقہ ہے کہ وہ کسی ملک یا سماج کی بری خبروں کو نمایاں کرے ۔ اور اچھی خبروں کو قابل تذکرہ نہ سمجھے۔ میڈیا کی اس روش نے عالمی سطح پر انسانی سوچ کو منفی بنا دیا ہے۔ اس معاملہ کی ایک دلچسپ مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ میں اکثر بی بی سی لندن کی نشریات کو سنتا ہوں۔ ایک دن میں بی بی سی لندن کا ہندی پروگرام سن رہا تھا۔ اپنے طریقہ کے مطابق، انہوں نے آخر میں کچھ خطوط پڑھ کر سنائے ۔ ایک خط ماریشس میں مقیم ایک ہندو کا تھا۔ اس نے اپنے خط میں یہ شکایت کی تھی کہ آپ ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں نشر کرتے ہیں، ماریشس میں بھی بہت سے لوگ ہندی بولتے ہیں مگر آپ کبھی ماریشس کی کوئی خبر نہیں دیتے۔ بی بی سی لندن کے اناؤنسر نے ہنستے ہوئے اس خط کا جواب دیا۔ اس نے کہا کہ میڈیا تو بری خبروں کی رپورٹنگ کا نام ہے۔ آپ کے ملک میں سب سے اچھی خبریں ہوتی ہیں، اور اچھی خبر میڈیا کے نزدیک کوئی خبر نہیں۔ Good news is no news. یہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے کہ دنیا میں صرف برائی ہی برائی ہو۔ حقیقت یہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader