میڈیا کلچر
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ خود نظام فطرت کے تحت دنیا میں اگر ایک فیصد برائی ہوتی ہے تو عین اسی وقت ننانوے فیصد اچھائی موجود رہتی ہے، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ مگر میڈیا کبھی لوگوں کو اس واقعہ کی خبر نہیں دیتا کہ ہم جن برائیوں کی رپورٹ کر رہے ہیں وہ پورے سماج کا ایک فیصد حصہ ہے، نہ کہ کل حصہ۔ 1947ء سے پہلے برصغیر ہند کے اخبارات انگریزوں کے بارے میں صرف ان کے ”ظلم“ کی خبریں دیتے تھے، انگریزی نظام کے مثبت پہلو اخباروں میں جگہ نہیں پاتے تھے۔ چنانچہ تمام ہندوستانیوں کو انگریزوں سے نفرت ہوگئی۔ 1947 سے پہلے مسلم لیگ سے متاثر اخبارات یہاں کے ہندوؤں کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرتے تھے اور ان کے بارے میں صرف منفی باتیں چھاپتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کی اکثریت یہاں کے ہندوؤں کے بارے میں بدظن ہوگئی۔ اسی طرح آج کل تمام دنیا کا مسلم میڈیا امریکہ کے مثبت پہلوؤں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا، وہ اس کے بارے میں صرف بری باتوں کو مسلمانوں تک پہنچاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے متنفر ہوگئے ہیں اور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ میڈیا کی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔ میڈیا کے اپنے تجارتی مصالح کی بنا پر یہ ممکن نہیں کہ وہ یک طرفہ رپورٹنگ کا طریقہ ختم کرے اور دو طرفہ رپورٹنگ کا طریقہ اپنے یہاں رائج کرے ۔ اس مسئلہ کا عملی حل میڈیا کی شکایت کرنا نہیں ہے بلکہ خود اپنے ذہن کی اصلاح کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کے اندر شعوری بیداری پیدا کریں۔ ہم یہ کوشش کریں کہ لوگوں کے اندر تفکیر و تدبر کی صحیح صلاحیت پیدا ہوتا کہ وہ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ سے متاثر نہ ہوں، بلکہ خود تجزیہ کر کے معاملات کے بارے میں درست رائے قائم کریں۔ اس تجزیہ کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً جب آپ مسلم اخباروں میں یا مسلم رہنماؤں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader