Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

مطالعۂ حدیث کے درجات ابتدائی دور کے محدثین کا عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے حدیثوں کی جمع اور تدوین کا انتہائی مشکل کام انجام دیا۔ یہ گویا مطالعہ حدیث کا ابتدائی درجہ تھا۔ اس کے بعد اگلی نسل کا یہ کام ہے کہ وہ حدیثوں کا جامع انڈکس (Index) تیار کر کے حدیثوں سے علمی استفادے کو آسان بنا دے۔ اس کے بعد اس معاملے کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں احادیث کی جو تشریحات کی گئیں ان کو مرتب کیا جائے تاکہ ان احادیث کو سمجھنے کے لیے ابتدائی بیک گراؤنڈ معلوم ہو سکے۔ اس کے بعد اس معاملے کا چوتھا درجہ یہ ہے کہ ان احادیث کا مطالعہ زمانی حالات کے پس منظر میں کیا جائے تاکہ ان احادیث کا توسعی مفہوم معلوم کیا جا سکے۔ احادیث کے توسعی مفہوم سے کیا مراد ہے، اس کے چند نمونے اوپر کی مثالوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اس معاملے کا پانچواں درجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تمام صحیح احادیث کا مکمل انسائیکلو پیڈیا تیار کیا جائے، تاکہ جدید انسان کے لیے اس کے اپنے مانوس اسلوب میں حدیثوں کا مطالعہ ممکن ہو سکے، وغیرہ۔ حدیث کے مطالعے کے درجات جو یہاں بتائے گئے، وہ حتمی درجات نہیں ہیں۔ یہ مثالیں صرف اس مسئلہ کو بتانے کے لیے دی گئی ہیں کہ تقلیدی مطالعے کے مقابلے میں اجتہادی مطالعہ کا فرق کیا ہے اور اس سے انسان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اجتہادی عمل کی اہمیت اجتہاد محض ایک ذہنی مشغلہ نہیں، اجتہاد اہل اسلام کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ اجتہادی عمل کے ذریعے اہل اسلام ہر زمانے میں اپنی دینی حیثیت کو از سر نو قائم کرتے رہتے ہیں۔ وہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو از سر نو منطبق کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page