Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام ایک ابدی مذہب ہے۔ وہ ہر آنے والے زمانے میں اتنا ہی مناسب (relevant) ہے جتنا کہ کسی قدیم زمانے میں ۔ گویا کہ اجتہاد کا عمل اسلامی فکر کو مسلسل طور پر مطابق وقت (update) بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اجتہاد کیا ہے اجتہاد سے مراد آزادانہ رائے قائم کرنا نہیں ہے۔ اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت جو اسلام کے اصل مصادر (sources) ہیں، ان پر غور کر کے قیاسی یا استنباطی طور پر شریعت کے نئے احکام معلوم کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد بھی تقلید ہی کی ایک قسم ہے۔ عام مقلد فقہا کی تقلید کرتا ہے، اور مجتہد وہ ہے جو خدا اور رسول کی تقلید کرے اور قرآن و حدیث کے نصوص پر غور کر کے براہ راست طور پر احکام کا استنباط کرے۔ اجتہاد سے مراد وہی فکری عمل ہے جس کو قرآن میں استنباط (4:83) کہا گیا ہے۔ فقہا کی اصطلاح میں اس کا نام قیاس ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اجتہاد سے مراد بالواسطہ اخذ احکام ہے، جب کہ براہ راست اخذ احکام کی صورت بظاہر موجود نہ ہو۔ استنباط کا لفظ نبط سے ماخوذ ہے۔ نبط کے لفظی معنی ہیں زمین کے اندر سے پانی کا نکلنا۔ اِسْتَنْبَطَ البِئر کے معنی ہوتے ہیں کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا۔ اس سے یہ کہا جاتا ہے کہ "اِسْتَنْبَطَ الْفَقِیہُ" یعنی فقیہ نے قرآن و حدیث پر غور کر کے اس کے پوشیدہ معنی کو نکالا۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے: اِسْتِنْبَاطٌ فِي اللُّغَةِ الاِسْتِخْرَاجُ، وَهُوَ يَدُلُّ عَلَى الاجْتِهَادِ إِذَا عُدِمَ النص والإجماع (الجامع لأحکام القرآن، جلد 5، صفحہ 292) ۔ یعنی، استنباط کے معنی استخراج کے ہیں۔ اس کا مطلب ہے نص اور اجتماع کی غیر موجودگی میں اجتہاد کر کے شریعت کا حکم معلوم کرنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page