مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی ابتدائی عمر میں اس کو سب سے زیادہ جس چیز سے دلچسپی ہوئی وہ یقینیت (certainty) تھی۔ وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے علم کا طالب تھا مگر وہ اس علم کو حاصل کرنا چاہتا تھا جس کے واقعہ ہونے پر وہ یقین کر سکے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر اس کو سب سے پہلے میتھمیٹکس سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس نے لکھا ہے کہ اس زمانے میں میرا احساس یہ تھا کہ میں نے اپنے لیے مذہب کا ایک قابلِ اعتماد بدل پالیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو نظر آیا کہ میتھمیٹکس میں منطقی تیقن (logical certainty) موجود ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ میں نے میتھمیٹکس کی صورت میں اس علم کو پا لیا ہے جس کو میرا ذہن تلاش کر رہا تھا۔ اس کے مقابلے میں مذہب برٹرینڈ رسل کو توہّمات (superstition) کا مجموعہ نظر آیا۔ چنانچہ اس نے مروّجہ مذہب کو رد کر کے میتھ میٹکس کو اپنے دین کے طور پر اختیار کر لیا۔ مگر بعد کو جب برٹرینڈ رسل نے زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا تو اس کا یہ یقین متزلزل ہو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ میرا یہ یقین حقائق کے سرسری مطالعہ پر مبنی تھا، حقائق کا زیادہ گہرا مطالعہ اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ برٹرینڈ رسل کے بعد کے مطالعہ کے نتائج کو اس کی کتاب انسانی علم (Human Knowledge) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں برٹرینڈ رسل نے قطعی دلائل کے ذریعہ دکھایا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسانی مطالعہ کبھی بھی کسی کو یقینی علم تک نہیں پہنچا سکتا۔ ایک طرف انسانی محدودیتیں اور دوسری طرف کائنات کی پراسرار نوعیت (Mysterious nature) فیصلہ کن طور پر یقینی علم کی راہ میں حائل ہیں۔ انسان کا مطالعہ آخر کار جہاں اس کو پہنچاتا ہے وہ تیقن (certainty) نہیں ہے بلکہ صرف قرینہ یا احتمال (probability) ہے۔ اس کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہم حقیقت (reality) کو براہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader