مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
راست دریافت نہیں کر سکتے۔ ہم صرف یہ دریافت کر سکتے ہیں کہ احتمالی طور پر یہاں فلاں حقیقت موجود ہے، اگر چہ وہ براہِ راست ہمارے تجربہ میں نہیں آتی۔ برٹرینڈ رسل کو اس کے تمام عمر کے مطالعہ نے جہاں پہنچایا وہ ایک ایسا مقام تھا جہاں وہ حقیقی مذہب کے عین قریب پہنچ چکا تھا۔ اگر اسلامی الفاظ استعمال کیے جائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ لا الہ کی منزل تک پہنچ چکا تھا، مگر اس کے بعد وہ الا اللہ کی منزل طے نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ اس کی موت ہوگئی۔ برٹرینڈ رسل کی یہ بات کہ انسانی علم ہم کو صرف قرینہ یا احتمال (probability) تک پہنچاتا ہے، یہ اس کی ذاتی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانے کے تمام علمائے سائنس کا موقف ہے۔ یہ اصول اب جدید علم کا ایک ایسا مسلمہ بن چکا ہے جس سے کسی بھی صاحب علم کو اختلاف نہیں۔ علمی تحقیقات کا اس حقیقت تک پہنچنا کہ اس دنیا میں، خالص علمی طور پر، ہم صرف قرینہ یا احتمال تک پہنچ سکتے ہیں، بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم موجودہ علم کے مطابق، سائنس اور مذہب کے درمیان وہ فرق ختم ہو چکا ہے جو قدیم زمانے میں فرض کر لیا گیا تھا۔ اب عقل (reason) کا موقف بھی عین وہی ہے جو اس سے پہلے عقیدہ (belief) کا موقف تھا۔ مذہب کا موقف قدیم ترین زمانے سے یہ تھا کہ سچائی یا حقیقت اپنی نوعیت میں ایک غیبی چیز ہے، وہ نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتی ہے۔ ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ظاہری قرائن کی بنیاد پر یہ مستنبط کریں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے۔ اگر چہ وہ دکھائی نہیں دیتی۔ اب سائنس کا موقف بھی عین یہی ہو چکا ہے۔ جدید سائنس کا کہنا ہے کہ ہم چیزوں کی اصل کو نہیں دیکھ سکتے، ہم چیزوں کے صرف ظاہری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader