مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
اثر (effect) کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور ظاہری اثر سے یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ فلاں چیز یہاں موجود ہے، اگرچہ بظاہر وہ ہمارے مشاہدہ اور تجربہ میں نہیں آتی۔ برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے تمام لوگوں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ قرینہ (probability) کی بنیاد پر مذہب کی واقعیت کو بھی اسی طرح مانیں جس طرح وہ سائنسی نظریات کی واقعیت کو مانتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ ان کے پاس موجود نہیں۔ ان حضرات کو جاننا چاہیے کہ اب ان کے لیے جن دو حالتوں کے درمیان انتخاب ہے وہ انکار مذہب اور اقرار مذہب نہیں ہے بلکہ وہ اقرار مذہب اور انکار خویش کے درمیان ہے۔ یہ حضرات اگر مذہب کے انکار پر مصر ہوں تو انہیں خود اپنا انکار بھی کرنا پڑے گا۔ چونکہ ان کے لیے اپنا انکار ممکن نہیں اس لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ مذہب کا انکار کریں۔ دوسرا گروہ: آئن اسٹائن دوسرے گروہ کی ایک علامتی شخصیت آئن اسٹائن ہے۔ آئنسٹائن نے اپنی پوری زندگی سائنس کے مطالعہ میں گزاری۔ مگر اس کے ساتھ وہ اپنے اندر روحانی جذبات بھی پاتا تھا۔ چنانچہ اس نے مذہب کا بھی مطالعہ کیا۔ مذہب کے بارے میں بھی اس کا عقیدہ اتنا ہی گہرا تھا جتنا کہ سائنس کے بارے میں اس کا عقیدہ گہرا تھا۔ تاہم اس کے نظریہ کے مطابق دونوں دو بالکل الگ الگ موضوعات تھے۔ اس کے الفاظ میں، سائنس کا موضوع یہ جاننا ہے کہ کیا ہے (what is)۔ اس کے مقابلے میں مذہب کا موضوع یہ جاننا ہے کہ کیا ہونا چاہیے (what should be)۔ گویا مذہب کا تعلق داخلی یقین سے ہے اور سائنس کا تعلق خارجی معلومات سے۔ تاہم یہ تقسیم کافی نہیں۔ اس تقسیم کے باوجود وہ اصل سوال بدستور باقی رہتا ہے جس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader