Urdu book · مسائلِ اجتہاد

دوسرا گروہ: آئنسٹائن

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

بنا پر سائنس اور مذہب کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ خالص علمی اعتبار سے مذکورہ تقسیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ اصل سوال مذہب اور سائنس دونوں کو ملانے کا ہے۔ مذہب علم الہیٰ کا نام ہے اور سائنس علم انسانی کا نام۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ایسا فارمولا دریافت کریں جو علم الہیٰ اور علم انسانی دونوں کو ایک کرسکے۔ اس کے بغیر انسان کے اندر وہ مطلوب شخصیت پیدا نہیں ہوسکتی جسے کو علم نفسیات میں متکامل شخصیت (integrated personality) کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے لوگوں کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے علم کی نوعیت کو نہیں سمجھا۔ اس لیے وہ صحیح رائے تک نہ پہنچ سکے۔ اس طرح آئن اسٹائن اور اس کے جیسے لوگوں کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے مذہب کی نوعیت کو نہیں سمجھا اور اپنی عدم واقفیت کی بنا پر مذہب کا ایک خود ساختہ تصور قائم کر لیا جو حقیقت سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ اس گروہ کے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ تمام مروجۂ مذاہب کو مذہب کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب (major religions) ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں دوسرے مذاہب موجود ہیں۔ یہ لوگ ان سب کو ملا کر مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر مذہب کی تعلیمات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان میں وہ یکسانیت نہیں پائی جاتی جو سائنس میں موجود ہے۔ اس لیے وہ یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ مذہب ایک شخصی معاملہ ہے۔ جو شخص جس مذہبی عقیدہ کو مانے وہی اس کا مذہب ہے، کسی دوسرے شخص کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کا مذہبی تصور خود مذہب کی نفی ہے۔ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ایسی مکمل آئیڈیالوجی کا نام ہے جو انسان اور کائنات کی اطمینان بخش توجیہ کر سکے۔ جس میں انسان اپنے تمام داخلی اور خارجی سوالات کا جواب پالے۔ مذہب آدمی کے یقین کا سرچشمہ ہے۔ جو مذہب کلی صداقت نہ ہو وہ انسان کو یقین کا سرمایہ نہیں دے سکتا۔ اور جو مذہب انسان کو یقین نہ دے وہ مذہب بلا شبہ مذہب بھی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page