Urdu book · مسائلِ اجتہاد

دوسرا گروہ: آئنسٹائن

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ جدید اہل مذہب کے مطالعہ میں چند غلطیاں کرتے ہیں۔ اس بناء پر وہ مذہب کو سمجھنے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ 1۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر موجود مذہب کو مستند مذہب سمجھ لینا اور اس بنیاد پر مذہب کا مطالعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے تو ہماتی عقائد جیوتیش (Astrology) اور فلکیات (Astronomy) سب کو یکجا کر کے اور پھر ان کے مجموعی مطالعہ سے ایک علم الافلاک بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس معاملے میں سائنٹفک مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ غیر ثابت شدہ خیالات اور اوہام کو الگ کر دیا جائے اور صرف ثابت شدہ معلومات کی بنیاد پر علم افلاک وضع کیا جائے۔ ٹھیک یہی طریقہ ہمیں مذہب کے مطالعہ میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔ بطورِ واقعہ یہ درست ہے کہ آج کی دنیا میں مذہب کے نام سے بہت سے اعتقادی نظام پائے جاتے ہیں۔ لیکن جب ان کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خالص علمی اعتبار سے تمام مذاہب کی حیثیت یکساں نہیں۔ ان میں ایسے مذاہب ہیں جن کی کوئی معلوم تاریخ نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے تمام مذاہب ابتدائی طور پر ہی رد ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ جن مذاہب کو تاریخی اعتبار یت (historical credibility) حاصل نہ ہو وہ سرے سے اس قابل ہی نہیں کہ ان پر غور کیا جائے۔ اسی طرح کتنے مذاہب ہیں جن کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ ان کا موجودہ متن (text) کسی تبدیلی کے بغیر آج موجود ہے، اور جس مذہب کا خود متن مشتبہ ہو اس کی صداقت پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے مختلف علمی معیار (scientific criteria) ہیں جن کا استعمال مذاہب کے مطالعہ میں ضروری ہے۔ مگر جب ان معیاروں کو موجودہ مذاہب پر منطبق کیا جاتا ہے تو یہ مذاہب اس علمی جانچ پر پورے نہیں اترتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page