مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہائے اسلام نے دوسری صدی ہجری میں اجتہاد کا یہی کام کیا۔ عباسی خلافت کے زمانے میں کثرت سے نئے مسائل پیدا ہوئے۔ ان مسائل کا براہ راست یا منصوص جواب بظاہر قرآن و سنت میں موجود نہ تھا۔ اس وقت فقہائے اسلام نے اجتہاد کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کے نصوص سے قیاس یا استنباط کے ذریعے نئے حالات کے لیے شرعی احکام معلوم کیے۔ اس اجتہاد کا یہ فائدہ تھا کہ اہل اسلام کے قافلے نے بدلے ہوئے حالات میں اپنے لیے شرعی رہنمائی پالی۔ تاریخ میں ان کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہا۔ مگر دوسری اور تیسری صدی ہجری کے بعد اہل اسلام کے درمیان بعض اسباب سے ایک غلط تصور قائم ہو گیا، وہ یہ کہ قرآن و سنت سے براہِ راست طور پر اجتہاد یا استنباط کرنا تھا وہ اس ابتدائی دور کے فقہا نے تکمیلی طور پر انجام دے دیا۔ اب براہِ راست نصوص سے احکام اخذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعد کے مسلمانوں کے لیے کرنے کا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ وہ ان فقہا کی کتابوں کو پڑھیں اور ان پر غور کر کے بعد کے زمانوں کے لیے شرعی احکام معلوم کرتے رہیں۔ اس طرح اسلام کی علمی تاریخ میں عباسی دور کے فقہا کو مجتہد مطلق کا درجہ مل گیا اور بعد کے دور کے فقہا کو صرف مجتہد مقید کا۔ دورِ اول کے فقہا کا اجتہاد قرآن و سنت پر مبنی ہوتا تھا مگر بعد کے علما کے لیے اجتہاد کا مطلب صرف یہ رہ گیا کہ وہ دورِ اول کے فقہا کے دائرہ میں محدود رہتے ہوئے اپنے لیے شرعی احکام کا تعین کریں۔ فکری المیہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسلمانوں کے فکری المیہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس فکری موقف نے مسلمانوں کو ایک ٹھہرا ہوا قافلہ بنا دیا۔ امیر شکیب ارسلان (وفات 1946) نے اپنی کتاب ”لماذا تأخر المسلمون وتقدم غیرهم“ میں جو بحث چھیڑی تھی، اس کا اصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader