مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب یہی ہے کہ زمانہ جدید میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا واحد سبب یہ تھا کہ ان کے درمیان اجتہاد کا عمل رک گیا۔ اجتہاد کوئی اختیاری عمل نہیں، وہ ایک ناگزیر فطری عمل ہے۔ ایسا نہیں کہ اجتہاد خواہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد کے عمل کو روکنا گویا فطرت کے عمل کو روکنا ہے، اور فطرت کے عمل کو روکنا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ خود رو کرنے والا اپنی ترقی کے سفر کو ختم کر دے۔ دریا کی زندگی اس کی روانی میں ہے۔ دریا کے جاری پانی کو اگر روک دیا جائے تو اس کے بعد وہ دریا نہ رہے گا بلکہ وہ ایک متعفن گڑھے میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسی طرح کوئی گروہ اگر اپنے درمیان اجتہاد کے عمل کو روک دے تو اس کے اندر ایسا جمود پیدا ہوگا جو اس کے لیے ہر قسم کی ترقی کو ناممکن بنا دے گا، صرف مادی ترقی نہیں بلکہ خود مذہبی اور روحانی ترقی بھی۔ از سر نو غور کرنے کی صلاحیت مقلد انسان، عوامی مقولے کے مطابق، صرف لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کسی معاملے کا از سر نو اندازہ (reassessment) کر سکے۔ وہ ایک ہی مانوس ڈگر پر چلتا رہتا ہے، خواہ عملاً وہ سراسر بے نتیجہ کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس اجتہادی مزاج رکھنے والا آدمی بار بار معاملات پر نظر ثانی کرتا ہے۔ وہ ماضی اور حال کا مطالعہ کر کے اپنے عمل کا نیا منصوبہ بناتا ہے۔ مقلد انسان اگر ماضی میں ہوتا ہے تو مجتہد انسان اس کے مقابلے میں مستقبل میں۔ اس کی ایک مثال برصغیر ہند کے حالات میں ملتی ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں انگریزوں کا غلبہ ہوا تو اس زمانے کے مسلم رہنما صرف ایک ہی بات سوچ سکے۔ اور وہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ تھا۔ دارالحرب اور جنگ و قتال کے قدیم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader