از سر نو غور کرنے کی صلاحیت
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
نظریات کے تحت ان کا جو ذہن بنا تھا وہ ان کو صرف ایک ہی سبق دیتا تھا اور وہ یہ کہ انگریزوں سے لڑ کر ان بیرونی دشمنوں کا خاتمہ کریں۔ اس مزاج کے تحت 1799ء میں سلطان ٹیپو انگریزوں کی فوجوں سے لڑ گئے۔ اگرچہ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور ان کی وسیع سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ انہیں نظریات کے تحت 1857ء میں مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑ دی۔ یہ جنگ مختلف شکلوں میں نصف صدی سے زیادہ لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ بھی معلوم طور پر مسلم رہنماؤں کی یک طرفہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اس خونیں جنگ کا کوئی بھی فائدہ نہ اسلام کو ملا اور نہ مسلمانوں کو۔ یہ ان لوگوں کی مثال تھی جنہوں نے انگریزوں کے معاملے کو مقلدانہ نظر سے دیکھا۔ تاہم ٹھیک اسی معاملے میں مجتہدانہ نظر کی ایک مثال بھی تاریخ میں موجود ہے۔ یہ سید محمد رشید رضا مصری (وفات 1935ء) کی مثال ہے۔ وہ 1912ء (1330ھ) میں مولا نا شبلی نعمانی کی دعوت پر لکھنؤ آئے تھے تا کہ دارالعلوم ندوۃ العلما کے اجلاس میں شرکت کر سکیں ۔ اس کے بعد وہ دارالعلوم دیو بند آئے جو اس وقت گویا انگریزوں کے خلاف تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس موقع پر دارالعلوم دیو بند میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ دار العلوم کی طرف سے مولانا انور شاہ کشمیری نے تقریر کی ۔ اس کے بعد سید محمد رشید رضا نے جلسے کو خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عربی زبان میں جو تقریر کی وہ دارالعلوم دیو بند کی روداد (1330ھ) میں چھپی ہوئی موجود ہے۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا: "اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ غیر مسلموں سے متعلق ہونا چاہیے ۔ ہندوستان میں صد ہا قسم کے بت پرست ہیں، یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کے پوجنے والے، چاند، سورج، ستاروں اور نہایت لغویات اور خرافات کو پوجنے والے بھی موجود ہیں۔ پس اگر ہمارے پاس دعاة اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader