تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی بھی عذر کی بنا پر لڑائی چھیڑنے کی اجازت نہیں۔ ان تعلیمات کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کے مقرر کیے ہوئے قانون جنگ کے مطابق، مجبورا نہ نوعیت کی دفاعی جنگ کے سواہر جنگ نا جائز ہے۔ مثلاً گوریلاوار، پراکسی وار، بلا اعلان وار جارحانہ وار، یہ سب کی سب بلاشبہ اسلام میں نا جائز ہیں۔ جنگ ایک حیوانی فعل ہے، جنگ کوئی انسانی فعل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے ابدی قانون کے مطابق، امن ایک عموم (rule) ہے، اور جنگ صرف ایک استثناء (exception)۔ امن ہر حال میں ایک قابل اختیار چیز ہے، جب کہ جنگ صرف شدید ضرورت کے وقت اپنے بچاؤ کے لیے اختیار کی جاتی ہے، وہ بھی اس وقت جب کہ ٹکراؤ سے اعراض کی تمام پر امن تدبیریں نا کام ہوگئی ہوں۔ صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ قرآن کی سورہ نمبر 8 میں کہا گیا ہے کہ ــ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (8:46) ۔ یعنی تم لوگ صبر کی روش اختیار کرو، بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر کی روش اختیار کریں۔ صابرانہ طریقہ کار کو دوسرے لفظوں میں پر امن طریق کار کہا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ کار متشددانہ طریقہ کار ہے۔ مذکورہ آیت فطرت کے اس قانون کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں جولوگ پر امن طریقہ کار اختیار کریں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے تمام اسباب ان کی حمایت میں مستعد ہو جاتے ہیں، اس کے برعکس، جولوگ متشددانہ طریقہ کار اختیار کریں وہ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہوجاتے ہیں، اور جولوگ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہوجائیں ان کے لیے خدا کی اس دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader