Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر کے طریقہ کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ناخوش گوار باتوں پر اپنی برداشت نہ کھوئے ۔ تاکہ اس کی مثبت سوچ درہم نہ ہونے پائے ۔ وہ ممکن اور ناممکن میں فرق کرے اور ممکن کو اپنا نقطہ آغاز بنائے۔ وہ اچانک انجام کا خواہشمند نہ ہو بلکہ تدریج کا انداز اختیار کرے۔ وہ نقصان پر مایوس نہ ہو بلکہ مستقبل کے پیش نظر اپنا عمل جاری رکھے۔ جو کچھ آج ملنے والا ہے اس کو وہ آج حاصل کرے اور جو کچھ کل ملنے والا ہے اس کے لیے وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ اپنی خواہش کو فطرت کے قانون کے ماتحت رکھے، نہ کہ فطرت کے قانون کو اپنی خواہش کے ماتحت بنانے کی کوشش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے، صبر کوئی سلبی یا انفعالی روش نہیں۔ پرامن نظریاتی اشاعت قرآن کی سورہ نمبر 25 میں اہل حق کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) ۔ یعنی، تم ان کے اوپر جہاد کرو، بڑا جہاد، قرآن کے ذریعہ۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن ایک کتاب ہے، ایک نظریاتی کتاب۔ وہ کوئی تلوار نہیں ۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب صرف یہی ہوسکتا ہے کہ قرآن کے افکار کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ قرآن کے پیغام کو ہر امن انداز میں لوگوں کے درمیان عام کرو۔ قرآن کے نظریات کو مدلل انداز میں بیان کرکے اس کو لوگوں کے لیے قابل قبول بناؤ۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جس چیز کو جہاد کہا گیا ہے وہ پرامن جدوجہد (peaceful struggle) ہے، اس کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ آمیز کوشش کے لیے بولا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ محنت کرنا۔ کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی آخری کوشش صرف کر دینا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page