تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت سے معلوم ہوا کہ پرتشدد کوشش کے مقابلہ میں پرامن کوشش زیادہ عظیم ہے۔ کوئی آدمی جب متشددانہ طریقہ کار اختیار کرے تو کوشش کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ پرامن طریقہ کار اختیار کرے تو اس کا دائرہ کار لامحدود حد تک بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ متشددانہ طریقہ کار میں صرف تلوار یا گن کارآمد ہے، لیکن پرامن طریقہ کار میں ہر چیز آدمی کے لیے ذریعہ اور وسیلہ بن جاتی ہے، حتیٰ کہ بند کمرہ میں استعمال ہونے والا ایک قلم بھی۔ دشمن کو دوست بنانا قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ارشاد ہوا ہے: بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔ قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک راز بتایا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو۔ اور پھر یہ معجزاتی واقعہ پیش آئے گا کہ جو آدمی بظاہر تمہارا دشمن دکھائی دیتا تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ دشمنی کوئی فطری چیز نہیں، وہ ایک مصنوعی ردعمل ہے۔ جب بھی کسی وجہ سے کوئی شخص بظاہر تمہارا دشمن بن جائے تو تم اس کے ساتھ ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرو، خواہ یہ بہتر سلوک تم کو مفروضہ دشمن کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود یک طرفہ بنیاد پر کرناپڑے۔ تمہارا ایک طرفہ سلوک یہ کرے گا کہ وہ دشمن کے اندر پیدا ہونے والے منفی جذبات کو دبا دے گا۔ تمہارا ایک طرفہ سلوک دشمن کی سوئی ہوئی انسانیت کو جگا کر اس کو ایک نیا انسان بنا دے گا۔ اور یہ نیا انسان وہی ہوگا جس کو قرآن میں قریبی دوست کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader