تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا آدمی ایک ہی مشترک فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی پہلے مسٹر نیچر ہے، اس کے بعد وہ مسٹر دشمن یا مسٹر دوست بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ہیں وہی آپ کا مفروضہ دشمن بھی ہے۔ اور جو آپ کا مفروضہ دشمن ہے وہی خود آپ بھی ہیں ۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ بظاہر دشمنی کے باوجود وہ فریق ثانی کے اندر اپنے مشترک انسان کو تلاش کرے ۔ وہ دوسروں سے بھی وہی امید رکھے جو امید وہ اپنے سے کیے ہوئے ہے۔ خود اپنے عمل کا نتیجہ قرآن کی سورہ نمبر 42 میں کہا گیا ہے کہ۔ جو مصیبت بھی تمھارے اوپر پڑتی ہے وہ صرف تمھارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے (42:30) ۔ قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا اسباب وعلل کے اصول پر قائم ہے ۔ جیسے اسباب ویسا نتیجہ ۔ یہ آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ کسی آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اس کو چاہیے کہ اس کا سبب وہ خود اپنے اندر دریافت کرے، نہ کہ وہ اپنے سے باہر اس کا سبب تلاش کرنے لگے۔ زندگی کی یہ حقیقت جس آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار بتا کر اس کے خلاف تشدد کا معاملہ کرنے لگے ۔ اس کے بجائے وہ صرف یہ کرے گا کہ بے لاگ طور پر اپنی زندگی کا جائزہ لے گا۔ وہ خود اپنی غلطیوں کو دریافت کرے گا تا کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر کے وہ مصیبت کا شکار ہونے سے بچ جائے۔ مصیبت کا حوالہ دے کر دوسرے کے خلاف کارروائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض اپنے پڑوسی کو بتا کر اس سے لڑنے لگے۔ ایک شہر جہاں کا ٹریفک دائیں چلو (keep right) کے اصول پر قائم ہو، وہاں اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader