Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی بائیں چلو (keep left) کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے تو یقینی طور پر اس کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو جائے گی۔ یہ حادثہ اگرچہ بظاہر فریق ثانی کی گاڑی کے ٹکرانے سے پیش آیا ہو گا مگر آپ یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ فریق ثانی نے ٹکر مار کر آپ کو زخمی کر دیا۔ اس کے برعکس صحیح طور پر آپ کو صرف یہ کہنا چاہیے کہ میں غلط رخ پر چل رہا تھا اور فریق ثانی کی گاڑی صحیح رخ پر۔ اس لیے فریق ثانی کی گاڑی میری گاڑی سے ٹکرا گئی۔ یہی معاملہ زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں کا بھی ہے۔ آپ کو جب بھی اپنی زندگی میں کسی نقصان سے دوچار ہونا پڑے تو پیشگی طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ جو کچھ ہوا وہ خود آپ کی غلطی کی بنا پر ہوا۔ یہی زندگی کے معاملات میں صحیح سوچ ہے۔ اگر آپ صحیح انداز میں سوچیں تو آپ اپنی اصلاح کر کے اپنے مستقبل کو بچا لیں گے۔ اور اگر آپ اس کے برعکس، یہ کریں کہ اپنی مصیبت کا الزام دوسروں کو دیتے رہیں تو آپ اپنے مستقبل کو بھی برباد کر دیں گے، اور آپ کا ماضی اور حال تو پہلے ہی برباد ہو چکا ہے۔ غصہ ایک کمزوری ہے قرآن کی سورہ نمبر 42 میں سچے انسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (42:37)۔ یعنی، جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف غصہ کو معاف کرنا یا اُس کو بھلا دینا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب غصہ کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ دلانے کے باوجود آدمی بے غصہ ہو کر سوچے ۔ وہ غصہ سے متاثر ہوئے بغیر اس کا جواب دے۔ غصہ ایک کمزوری ہے، اور غصہ نہ کرنا ایک طاقت ہے۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ ہر صورت حال کو مینج کر سکتا ہے۔ وہ ہر معاملہ کو اپنے موافق بنا سکتا ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page