تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
مختل کر دیتا ہے۔ ایسا آدمی صورت معاملہ کو نہ تو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے اور نہ صحیح طور پر اس کا جواب دے سکتا ہے۔ کوئی آدمی غصہ ہو جائے تو فوراً وہ تشدد کی طرف جاتا ہے۔ حالاں کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ اور جو آدمی اپنے غصہ کو قابو میں رکھے، وہ مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرے گا۔ اور پرامن حل ہی کسی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔ انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بھر پور صلاحیتوں کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ مگر آدمی جب غصہ ہو جائے تو اُس کے ذہن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی ذہنی صلاحیت کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کرے۔ غصہ نہ ہونا جیت ہے، اور غصہ ہونا اُس کے مقابلہ میں ہار۔ حق پر صبر کے ساتھ جمنا قرآن کی سورہ نمبر 103 میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچتے ہیں اور کامیاب زندگی حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (103: 3) یعنی، وہ لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ جب بھی کوئی آدمی سچائی کے راستہ پر قائم ہوتا ہے یا لوگوں کو سچائی کی طرف بلاتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اس کو لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں حق پرست آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے، وہ پیش آنے والی مشکلات کو اپنے اوپر سہے، وہ ان کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے کی کوشش نہ کرے۔ صبر غیر جارحانہ طریقہ کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پرست آدمی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader