تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہیے کہ وہ تشدد کے مقابلہ میں جوابی تشدد نہ کرے۔ وہ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو پر امن طریق کار کا پابند بنائے۔ اسی روش کا دوسرا نام صبر ہے۔ حق اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو آدمی حق کو لینا چاہے تو اس کو تشدد کو چھوڑنا پڑے گا۔ تشدد، خواہ کسی بھی عذر کی بنا پر استعمال کیا جائے، وہ تشدد ہے۔ ہر تشدد یکساں طور پر تباہ کن ہے۔ کوئی خوب صورت عذر تشدد کو اس کے تباہ کن اثرات سے بچا نہیں سکتا۔ حق کے حصول کے نام پر تشدد کرنا خود حق کی نفی ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر تشدد کریں وہ اپنے بارے میں ثابت کرتے ہیں کہ ان کا کیس حق کا کیس نہیں۔ حق پسند آدمی کبھی تشدد پسند نہیں ہو سکتا۔ جو آدمی تشدد کو پسند کرے وہ یقینی طور پر حق پسند نہیں، خواہ وہ بطور خود اپنے آپ کو حق کا چیمپئن کیوں نہ سمجھتا ہو۔ امن کی قیمت ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کوئی چیز آدمی کو اسی وقت ملتی ہے جب کہ وہ اسکی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ ضروری قیمت ادا کیے بغیر اس دنیا میں کسی کو اپنی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ یہی معاملہ امن کا بھی ہے۔ امن کی بھی ایک قیمت ہے۔ کوئی فرد یا گروہ اسی وقت امن کو حاصل کر سکتا ہے جب کہ وہ اسکی مطلوب قیمت ادا کرے۔ امن کی یہ قیمت نقصان کو برداشت کرنا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی سورہ نمبر 2 میں اس طرح بیان کی گئی ہے: ہم ضرورتم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں۔ ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (156-2:155)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader