تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت میں زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کا نظام جس قانون کے تحت بنا ہے، اس کے مطابق، ایسا ہونا ضروری ہے کہ لوگوں کو مختلف قسم کا نقصان اٹھانا پڑے۔ کبھی انہیں دوسروں کی طرف سے چیلنج پیش آئے، کبھی انہیں اقتصادی تنگی کا شکار ہونا پڑے، کبھی انہیں ملک و مال میں کمی کا تجربہ ہو، کبھی وہ حادثہ کا شکار ہو جائیں، کبھی وہ کسی ایسے فائدے سے محروم ہو جائیں جس کو وہ اپنا حق سمجھتے تھے، وغیرہ۔ اس قسم کے ناخوش گوار تجربات عین فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں ہر ایک کو کبھی نہ کبھی پیش آئیں گے۔ ایسی حالت میں لوگ اگر نقصان کو برداشت نہ کریں تو اسی کے نتیجہ کا نام تشدد ہے۔ اور اگر وہ اس بات کو برداشت کر لیں تو اسی کے نتیجہ کا نام امن ہے۔ نقصان پیش آنے پر صبر اور برداشت کا رویہ اختیار کرنا کوئی پسپائی کی بات نہیں۔ یہ ہمت و حوصلہ کی بات ہے۔ یہ حقیقت واقعہ کو اختیارانۂ طور پر تسلیم کرنا ہے۔ اس کا مطلب، ایک چیز کھونے کے بعد یہ یقین رکھنا ہے کہ بہت سی دوسری چیزیں اب بھی اس کے پاس موجود ہیں جن کے سہارے وہ از سر نو اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتا ہے۔ صبر و برداشت کا فائدہ یہ ہے کہ چیز کو کھونے کے باوجود آدمی اپنے اعتدال کو نہیں کھوتا۔ وہ وقتی ناکامی کے باوجود اپنی اس صلاحیت کو باقی رکھتا ہے کہ وہ صورت حال پر معتدل انداز میں غور کرے ۔ وہ معاملہ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر از سر نو اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ وہ کھوئے ہوئے کو بھلا کر باقی رہنے والی چیزوں کی بنیاد پر دوبارہ اپنے کام کو منظم کرے۔ وہ مایوسی کے بجائے تدبیر سے کام لے پھر سے زندگی کا سفر شروع کر دے۔ موجودہ دنیا کی ایک صفت یہ ہے کہ یہاں ہر شام کے بعد دوبارہ صبح طلوع ہوتی ہے۔ دنیا امکانات و مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ایک موقع کھونے کے بعد آدمی کو دوسرا موقع مل جاتا ہے۔ ایک زینہ سے محرومی کے بعد اس کے لیے دوسرے زینہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader