تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس طرح اس دنیا میں بار بار یہ امکان موجود رہتا ہے کہ ایک نقشہ ٹوٹنے کے بعد آدمی دوسرے نقشہ کو استعمال کر کے اپنی زندگی کی نئی تعمیر کر لے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر بری خبر کے ساتھ ایک اچھی خبر شامل رہتی ہے۔ ہر حادثہ آدمی کو خاموش زبان میں یہ خوش خبری دیتا ہے کہ تم مایوس اور بددل نہ ہو۔ بلکہ ہمت سے کام لے کر نئے مواقع کی تلاش کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو فطرت کا نظام پیشگی طور پر تم کو یہ خوش خبری دیتا ہے کہ تمہاری محرومی مستقل محرومی نہیں بنے گی۔ جلد ہی تم اپنے لیے ایک نئی اور زیادہ بہتر دنیا کی تعمیر کر لوگے۔ جلد ہی تمہاری شکست ایک نئی قسم کا رہنما ثابت ہوگی۔ جو لوگ نقصان کو برداشت نہ کریں وہ منفی سوچ کا شکار ہو کر اپنی زندگی کو ایک بوجھ بنا لیتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ صبر اور ہمت سے کام لیں وہ ماضی کے کھنڈر پر اپنے لیے نیا محل تعمیر کر لیتے ہیں۔ وہ ایک شام کے بعد دوبارہ اپنے لیے ایک نئی صبح تلاش کر لیتے ہیں جس کی روشنی میں وہ اپنا سفر کے بغیر جاری رکھ سکیں۔ صلح کی پیشکش کو قبول کرنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش کی جارحیت کے نتیجے میں، قریش اور مسلمانوں کے درمیان حالت جنگ قائم ہوگئی تھی۔ اس موقع پر جو احکام قرآن میں دیے گئے ان میں سے ایک حکم یہ تھا: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ (8:61-62)۔ یعنی، اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader