Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں امن آخری حد تک مطلوب ہے۔ حتی کہ اگر رسک (risk) لے کر امن قائم ہوتا ہو تو رسک لے کر بھی امن قائم کیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں تعلیم دی گئی ہے۔ حالت جنگ کے دوران اگر فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو بلاتاخیر اس کو قبول کر لینا چاہیے۔ بالفرض اگر یہ اندیشہ ہو کہ صلح کی اس پیش کش میں کوئی دھو کہ چھپا ہوا ہے تب بھی اس اعتماد پر فریق ثانی سے صلح کی جائے گی کہ خدا ہمیشہ امن پسندوں کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ فریب دینے والوں کے ساتھ۔ اس سے مزید یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس دنیا میں امن ہمیشہ وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو اعلیٰ حوصلے کے مالک ہوں۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک دوسرے فریق کے درمیان مسائل موجود رہتے ہیں۔ ہمیشہ حقوق اور بے انصافی کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہی لوگ امن قائم کر سکتے ہیں جو ہر دوسرے تقاضے سے بلند ہو کر سوچیں، جو کسی بھی چیز کو عذر نہ بنائیں۔ صرف ایسے با حوصلہ لوگ ہی دنیا میں امن قائم کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر حوصلہ نہ ہو وہ صرف لڑتے رہیں گے، وہ امن کی تاریخ نہیں بنا سکتے۔ زیادہ بڑا رزق قرآن کی سورہ نمبر 20 میں پیغمبر کو مخاطب کرتے ہوئے زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بتایا گیا ہے: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى (20:131)۔ یعنی، تم ہرگز ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جن کو ہم نے ان کے کچھ گروہوں کو ان کی آزمائش کے لیے انہیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ اصل یہ ہے کہ زندگی کی دو مختلف صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی دنیا کو اپنا نشانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page