تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
بنائے۔ وہ ملک و مال میں اپنی کامیابی تلاش کرے۔ ان چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہی مادی چیزیں ہیں جن میں چھین جھپٹ کا معاملہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے جولوگ مادیات میں جیتے ہوں وہ یکسر حق تلفی یا محرومی کے احساس کا شکار رہتے ہیں۔ یہ احساس بار بار حسد اور انتقام اور تشدد کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ زندگی کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی یافت (achievement) کے احساس میں جیتا ہو۔ ایسا آدمی اپنے آپ میں مطمئن ہوگا۔ اس کے اندر پانے کا احساس اس کو اس سے بچائے گا کہ وہ دوسروں کے خلاف نفرت کرے یا ان کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے۔ یافت کا یہ احساس کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن کے الفاظ میں، رزق رب مل رہا ہو۔ رزق رب سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو یہ یقین حاصل ہو کہ اس نے سچائی کو پا لیا ہے۔ اس نے اس حقیقت کو دریافت کیا ہو کہ خالق نے اس کو جو وجود دیا ہے وہ سونے چاندی کے تمام ذخیروں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ اس طرح بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں رہے کہ پوری کائنات اس کے لیے فکری اور روحانی خوراک کا دسترخوان بن جائے۔ جو آدمی دنیا سے اس طرح کا رزق پا رہا ہو وہ اتنا زیادہ اوپر اٹھ جاتا ہے کہ ملک و مال جیسی چیزیں اس کے لیے حقیر بن جاتی ہیں۔ اس کی یہ نفسیات اپنے آپ اس کو امن پسند بنا دیتی ہے۔ نفرت اور تشدد جیسی چیزیں اس کو اتنا زیادہ بے معنی معلوم ہونے لگتی ہیں کہ اس کے پاس اس کا وقت نہیں رہتا کہ وہ کسی کے خلاف نفرت کرے یا کسی کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے۔ جس آدمی کو زیادہ بڑی چیز مل جائے وہ کبھی چھوٹی چیز کی طرف نہیں دوڑے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader