از سر نو غور کرنے کی صلاحیت
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہوگی جو اس وقت ہمارے خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلے میں اس قدر کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہیے۔ انگریزی حکومت نے، جو عقل و عدل کی حکومت ہے، غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان موازنہ قائم کر رکھا ہے۔ اگر خدا نخواستہ یہ موازنہ کسی وقت ٹوٹ جائے تو آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا؟ غالباً مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس میں ہوا تھا۔ اس لیے ایک جماعت ہم میں ایسی ہونی چاہیے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانے کے علوم و فنون کی بنا پر پیدا ہوگئے ہیں، ان کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔ مگر ان شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس داعی جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں“ (الجمعیتہ ویکلی، دہلی، 2 فروری، 1970ء، صفحہ 10)۔ سید محمد رشید رضا کی یہ تقریر مجتہدانہ بصیرت کی ایک مثال ہے۔ حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے انہوں نے پیشگی طور پر یہ جان لیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلم اقلیت اور غیر مسلم اکثریت کے درمیان بظاہر جو موازنہ (balance) قائم ہے وہ ایک تیسری طاقت (انگریز) کی موجودگی کی بنا پر ہے۔ اس تیسری طاقت کے ہٹتے ہی اس کا قائم کردہ موازنہ اچانک ٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی اور اس سے بالکل مختلف ہوگی جو 1992ء میں بظاہر دکھائی دے رہی تھی۔ گو یا سیاسی آزادی کا آنا مسلمانوں کے لیے ایک نئے مسئلے کا آنا ہوگا نہ کہ مسئلہ کا ختم ہونا۔ اس دور رس اندازے کی بنا پر سید رشید رضا نے ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے میدان دعوت میں سرگرم ہوں۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader