تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
امن پسندی تحفظ کا ذریعہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر سے اس کی قوم نے کہا: وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (11:91)۔ یہ رہط پیغمبر کے مومنین کا نہ تھا، بلکہ پیغمبر کی قوم کا تھا جو ایمان نہ لانے کے باوجود قبائلی روایت کی بنا پر پیغمبر کا تحفظ کرتے تھے۔ یہی حقیقت حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: فَمَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا بَعْدَهُ، إِلَّا فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 10903)۔ یعنی، ہر پیغمبر کو خدا نے اپنی قوم کی منعت (محافظ قوت) کے ساتھ بھیجا۔ قدیم زمانے میں جب کہ جدید طرز کا حکومتی نظام موجود نہ تھا لوگ قبائل کی حمایت میں رہا کرتے تھے۔ قبائلی روایات کے مطابق، ہر قبیلہ اس کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے افراد کا تحفظ کرے۔ قدیم زمانے میں یہی قبائلی روایت پیغمبروں کے لیے محافظ قوت بنی رہی۔ خود پیغمبر اسلام کو بنو ہاشم کے سردار ابو طالب کی طرف سے منعۃ حاصل تھا۔ ابو طالب اگر چہ آخر وقت تک ایمان نہیں لائے مگر وہ قبائلی روایات کی بنا پر، پیغمبر اسلام کے مخالفین کے مقابلے میں آپ کے لیے منعۃ (محافظ قوت) بنے رہے۔ (ملاحظہ ہو سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 281)۔ موجودہ زمانے میں قبائلی نظام ختم ہو چکا ہے۔ مگر جدید تصور ریاست کے تحت سیکولر نظام اہل ایمان اور اہل دعوت کو یہی منعۃ فراہم کر رہا ہے۔ موجودہ زمانے کی سیکولر حکومت اپنے شہری کو یہ گارنٹی دیتی ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ اہل مذہب یا اہل دعوت کسی کے خلاف تشدد نہ کریں۔ پیغمبروں کو قدیم زمانے میں جو منعۃ ملا وہ قبائلی منعۃ تھا، نہ کہ اسلامی منعۃ۔ اس کے باوجود پیغمبروں نے اس کو قبول کیا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو جو منعۃ ملا وہ بھی سیکولر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader