Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

علمی تیاری کریں تا کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں دعوت و تبلیغ کا کام کر سکیں۔ مگر اس وقت کے مسلم رہنما انگریز سے نفرت میں اتنا زیادہ گم تھے کہ وہ یہ سوچ ہی نہ سکے کہ انگریز کی موجودگی میں کوئی مثبت کام کرنا بھی ان کے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک عظیم تاریخی امکان استعمال ہوئے بغیر ختم ہو گیا۔ اور اس کا سبب صرف اجتہادی بصیرت کا فقدان تھا۔ یہاں ہم اجتہادی تاخر کی چند مثالیں دیں گے جن سے اندازہ ہوگا کہ مقلدانہ فکر کو اختیار کرنے کے نتیجے میں مسلمان کس قسم کے نقصانات سے دوچار ہوئے۔ اجتہادی عمل کو موقوف کرنے کے نتیجے میں کس طرح وہ دور جدید میں ایک بچھڑا ہوا قافلہ بن کر رہ گئے۔ فقہ کی تدوین دور اقتدار میں اس حادثے کی جڑ یہ ہے کہ ہماری موجودہ فقہ خلافت عباسیہ کے زمانے میں مدوّن ہوئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ اہل اسلام کو عالمی دبدبہ حاصل تھا ان کو دنیا میں سب سے بڑی سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس صورت حال کو ایک شاعر نے اپنے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا غرب دنیا میں نہ تھاپلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے موجودہ فقہ اسی حاکمانہ دور میں مدوّن ہوئی، اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے دور کا مزاج ان کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ مدوّن فقہ ایک قسم کی حاکمانہ فقہ بن گئی۔ نمونہ موجود نہیں میں نے ایک مشہور عالم اور مفکر کی تقریر سنی، یہ تقریر ہندوستان کے ایک شہر میں ہوئی تھی۔ ان کی تقریر کا موضوع ”جدید دور میں اسلام“ تھا۔ تقریب کے آخر میں حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ ہندوستان جیسے ملک میں ہمارے لیے شریعت میں کیا رہنمائی ہے۔ مذکورہ مسلم رہنما یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے، اس کے بعد کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page