تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
خارجی حریف سے لڑنے کا۔ اس کے برعکس، جو شخص نرمی اور عدم تشدد کا طریقہ اختیار کرے، اس کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام طاقتوں کو صرف ایک محاذ، داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائے، اور اس کے فطری نتیجے کے طور پر زیادہ بڑی ترقی حاصل کرلے۔ اس حدیث میں فطرت کے اس قانون کا ذکر ہے جس پر ہماری دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ اسی نظام کے تحت ملتا ہے، اس کے بغیر نہیں۔ فطرت کا یہ نظام تمام ترامن اور عدم تشدد کے اصول پر قائم ہے۔ اس لیے یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا، امن اور عدم تشدد کے اصول پر ملے گا، اس سے انحراف کرکے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ اختلاف کی حد پیغمبر اسلام ﷺ نے ایک طرف یہ فرمایا کہ: أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4344)۔ یعنی، ظالم حکمراں کے سامنے حق و عدل کی بات کہنا افضل جہاد ہے۔ دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1849)۔ یعنی، جو شخص اپنے حاکم میں ایسی چیز دیکھے جو اس کو پسند نہ ہو تو وہ اس پر صبر کرے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847)۔ یعنی، تم اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ ان حدیثوں میں بظاہر دو قسم کے احکام ہیں۔ ایک طرف یہ حکم ہے کہ تم اپنے حاکم میں کوئی غلط بات دیکھو تو کھلے طور پر اس کا اعلان کرو۔ دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ امیر کے اندر تمہیں کوئی غلط بات دکھائی دے تو اس پر صبر کرو، اگر وہ تمہارے اوپر ظلم کرے تب بھی تم اس کو برداشت کرو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader