Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے جس سے دو چیزوں کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ ہے، اعلان اور اقدام کا فرق۔ یہ ایک مطلوب بات ہے کہ آدمی حکمراں کے اندر کوئی غلط بات دیکھے تو وہ نصیحت اور خیر خواہی کے انداز میں اس کا اعلان کرے۔ مگر جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے تو آدمی کو اس سے مکمل طور پر باز رہنا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت اور ٹکراؤ کی سیاست میں فرق کرے۔ نصیحت کے جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے وہ سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طور پر بچے ۔ فرق کا اصول بے حد اہم ہے۔ سماج میں جب بھی تشدد کا ماحول بنتا ہے، وہ اس وقت بنتا ہے جب کہ لوگ حکمرانوں کے خلاف عملی ٹکراؤ کی مہم شروع کردیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمراں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ لیکن اگر اس قسم کی نزاعی سیاست سے بچتے ہوئے صرف قولی نصیحت پر اکتفا کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ سماج میں امن قائم رہے گا، سماج کبھی بھی تشدد کا جنگل نہیں بنے گا۔ پرامن طریقہ کار زیادہ بہتر ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3367)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی معاملے میں دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان تر انتخاب کرتے تھے۔ اختیار ایسر کے اصول کو اگر متشددانہ طریقہ کار اور پرامن طریقہ کار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اس سے نپٹنے کے لیے متشددانہ طریقہ کار کو اختیار نہ کیا جائے بلکہ پرامن طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔ کیوں کہ متشددانہ طریقہ کار یقینی طور پر مشکل ہے اور پرامن طریقہ کار یقینی طور پر آسان۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page