Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تشدد کی آگ کو بجھانا

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم یہ سادہ طور پر صرف آسان اور مشکل کا معاملہ نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پرامن طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے اور متشددانہ طریقہ یقینی طور پر بے نتیجہ ہے۔ وہ مسئلہ کو حل نہیں کرتا البتہ اس میں کچھ اور اضافہ کرکے اس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ حدیث میں مشکل طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول مشکل ہو۔ اس کے مقابلے میں آسان سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول آسان اور یقینی ہو۔

لچک کا طریقہ، نہ کہ اکڑ کا طریقہ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ صحیح البخاری، کتاب التوحید، صحیح مسلم، کتاب المنافقین، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد۔ اس حدیث میں مومن، بالفاظ دیگر، خدا پرست انسان کی مثال خامہ سے دی گئی ہے۔ خامہ نرم پودے کی طرح ہے۔ جب بھی ہوا کا کوئی جھونکا آتا ہے تو وہ اس کے مطابق، جھک جاتا ہے۔ اور جب جھونکا چلا جائے تو وہ دوبارہ اٹھ جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بلا اور مصیبت سے بچا لیتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5644؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2810)۔ اس حدیث کے مطابق، کسی طوفان کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے مقابلے میں اکڑ دکھائی جائے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں لچک کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مقابلے کا ایک طریقہ متشددانہ طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ پر امن طریقہ۔ خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے طریقہ کو چھوڑ دیا جائے اور دوسرے طریقہ کو اختیار کیا جائے۔ طوفان کے مقابلے میں جو لوگ اکڑ کا طریقہ اختیار کریں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ انانیت میں مبتلا ہیں۔ اس کے مقابلے میں امن کا طریقہ تواضع پر مبنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page