تشدد کی آگ کو بجھانا
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ خدا کی اس دنیا میں انانیت کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تباہی ہے اور تواضع کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے کامیابی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: مَنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللهُ (مسند الشہاب ، حدیث نمبر 335)۔ یعنی، جس نے تواضع کی روش اختیار کی، خدا اس کو بلندی عطا فرمائے گا۔ پرامن شہری حدیث میں آیا کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ: المُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِم (سنن الترمذي ، حدیث نمبر 2815)۔ یعنی، مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملے میں مامون ہوں۔ کسی سماج میں رہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان امن کے ساتھ رہے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسروں سے لڑائی جھگڑا کرتا رہے۔ اس حدیث کے مطابق، ایمانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان پرامن شہری بن کر رہے۔ دوسروں کی جان اور مال اور عزت کے لیے وہ مسئلہ نہ بنے۔ وہ کسی حال میں دوسروں کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ زندگی کا وہ طریقہ کیا ہے جس میں سماج کے افراد ایک دوسرے کی زیادتیوں سے محفوظ ہوں ۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ شکایت کے باوجود آدمی اپنی معتدل روش کو برقرار رکھے ۔ دوسروں سے شکایت کو وہ اپنے سینے میں دفن کردے ، وہ اپنے سینے کی آگ کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے سے بچے ۔ اسی قسم کا سماج وہ سماج ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے مامون رہ کر زندگی گزاریں ۔ پرامن سماج معیاری انسانی سماج ہے۔ اس کے برعکس، جس سماج میں تشدد ہو وہ حیوانی سماج ہے ، نہ کہ انسانی سماج۔ امن پسندی ایک اعلیٰ اخلاق ہے۔ اس کے مقابلے میں تشدد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی انسانی اخلاق کی سطح سے گر کر حیوانی اخلاق کی سطح پر آگیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader