Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

انتظار بھی حل ہے پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: اَفْضَلُ الْعِبَادَةِ اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یعنی، کشادگی کا انتظار کرنا ایک افضل عبادت ہے۔ ہر فرد اور گروہ پر ہمیشہ ایسے حالات آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو تنگی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر بیشتر لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تنگی کو ایک مستقل حالت سمجھ لیتے ہیں اور اس کو فورا اپنے آپ سے دور کرنے کے لیے حالات سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ تنگی پر کچھ اور مشکلات کا اضافہ کر لیا جائے۔ تنگی کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتی، وہ صرف وقتی طور پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں تنگی کے مسئلے کا آسان حل صرف یہ ہے کہ انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی غیر ضروری طور پر حالات سے لڑائی نہ چھیڑی جائے بلکہ سادہ طور پر انتظار کرو اور دیکھو (wait and see) کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کا ذہنی سکون برباد نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ اپنے آپ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔ جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ فورا اس کا حل نکل آئے۔ یہی اصل غلطی ہے۔ آدمی اگر پیش آئے ہوئے مسئلے کو انتظار کے خانے میں ڈال دے تو کوئی مسئلہ، مسئلہ نہیں۔ خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی امت کو بعد کے جن حالات سے پیشگی طور پر آگاہ کیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلم امت دوسری قوموں کی زد میں آجائے گی۔ چنانچہ فرمایا: يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا (سنن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page