خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو داؤد، حدیث نمبر 4297)۔ یعنی، قریب ہے کہ قو میں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو پکاریں جس طرح کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان پر پکارتے ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر میں پیش آیا۔ ابتداً یورپ کی نو آبادیاتی قوموں کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا۔ اس کے بعد دوسری قو میں اس میں شریک ہوتی چلی گئیں۔ اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسا کیوں ہوا۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہِ راست خدا کی سنت کے تحت پیش آیا۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ قوموں کو جگانے کے لیے ان پر تنبیہات نازل کی جاتی ہیں۔ یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے تا کہ وہ چونکیں اور اپنی اصلاح کریں۔ چنانچہ فرمایا: فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (43:6)۔ یعنی، پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے۔ بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے ۔ اور شیطان ان کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا رہا۔ اس آیت میں تزئین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ ایک برے کام کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا تا کہ اس کی برائی چھپ جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آیا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر عین وہی کام کیا جس کو مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ غیر قوموں کی طرف سے جو مسائل پیش آئے وہ خدائی انتباہ (warning) تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے ان مسائل کو ظلم اور سازش کی اصطلاحوں میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو واقعہ اس لیے تھا کہ مسلمان اپنی کوتاہیوں کو محسوس کریں اور اپنی داخلی اصلاح میں سرگرم ہو جائیں۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ساری سوچ غیر اقوام کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader