مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف متوجہ ہوگئی۔ جس واقعہ سے احتساب خویش کا ذہن پیدا ہونا چاہیے تھا، اس سے احتساب غیر کا ذہن جاگ اٹھا، جو بڑھتے بڑھتے تشدد تک جا پہنچا۔ خاموشی کی طاقت حضرت عمر فاروق اسلامی تاریخ کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: اَمِیْتُوا الْبَاطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْہُ (ابو نعیم اصبہانی، حلیۃ الأولیاء، جلد 1، صفحہ 55)۔ یعنی، تم لوگ باطل کو ہلاک کرو اس کے بارے میں چپ رہ کر۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں حق کو زندگی ملتی ہے اور باطل کے لیے موت مقدر ہے۔ ایسی حالت میں باطل کی ہلاکت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرلی جائے۔ باطل کے خلاف بولنا یا اس کے خلاف ہنگامہ کرنا اس کو زندگی دیتا ہے۔ اور باطل کو نظر انداز کر کے اس کے بارے میں چپ رہنا اس کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔ باطل کے بارے میں چپ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو نظر انداز کیا جائے۔ اس کے خلاف کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا جائے۔ اس کے مقابلے میں احتجاج اور صف آرائی کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ تاہم ایسا کرنا صرف ان لوگوں کے لیے ممکن ہے جو فطرت کی طاقت جانیں اور اس پر بھروسہ کر سکیں۔ جو لوگ فطرت کی طاقت کو نہ جانیں، وہی لوگ باطل کے خلاف ہنگامہ آرائی کر کے اس کو زندگی دینے کا سبب بن جاتے ہیں۔ تشدد مایوسی کا نتیجہ تشدد محرومی کے احساس کا نتیجہ ہے، اور امن یافت کے احساس کا نتیجہ۔ جو لوگ اس احساس میں مبتلا ہوں کہ وہ محروم ہیں، دوسروں نے ان کی چیزان سے چھین لی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ منفی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں۔ اور ان کا یہی احساس اکثر تشدد کی صورت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader