پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
ریڈیکلزم کا طریقہ جذباتی لوگوں کو یا انتہا پسند لوگوں کو بظاہر پسند آتا ہے، مگر وہ کسی مثبت مقصد کے لیے مفید نہیں۔ ریڈیکلزم کا طریقہ تخریب کے لیے کارآمد ہے، وہ تعمیر کے لیے کارآمد نہیں۔ ریڈیکلزم کے طریقہ میں صرف موجودہ سسٹم ہی نہیں ٹوٹتا، بلکہ اس عمل کے دوران وہ سماجی روایات ٹوٹ جاتی ہیں جو صدیوں کے درمیان بنی تھیں ۔ قتل و خون اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے بے شمار لوگ طرح طرح کی مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ریڈیکلزم کا طریقہ نظریاتی طور پر بظاہر خوب صورت معلوم ہوتا ہے، مگر عملی انجام کے اعتبار سے اس میں کوئی خوبی نہیں۔ اس کے مقابلے میں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صورت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ صورت موجودہ (status quo) کو وقتی طور پر قبول کرتے ہوئے ان مواقع کو استعمال کیا جائے جواب بھی موجود ہیں۔ اس طریقے کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) کہا جاسکتا ہے۔ ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ تشدد پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم سماج کے امن کو باقی رکھتے ہوئے اپنا کام انجام دیتا ہے۔ ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ مسئلہ میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کا طریقہ سماج میں کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر اپنا عمل انجام دیتا ہے۔ ایک اگر بگاڑ کا راستہ ہے تو دوسرا بناؤ کا راستہ۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے قدیم عرب میں اصلاح کا جو طریقہ اختیار کیا اس کو ایک لفظ میں، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً اس زمانے میں خانہ کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔ مگر قرآن کے ابتدائی دور میں اس قسم کا حکم نہیں اترا کہ: طَهِّرِ الْكَعْبَةَ مِنَ الْأَصْنَامِ (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ اس کے بجائے اس ابتدائی دور میں قرآن میں جو آیت اتری وہ تھی : وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ (74:4)۔ یعنی، اپنے کپڑوں کو پاک کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے اخلاق کو اور دوسروں کے اخلاق کو درست بناؤ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader