مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
تشدد کا کوئی جواز نہیں تشدد انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ تشدد انسانیت کا قاتل ہے۔ تشدد تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس کے باوجود لوگ کیوں تشدد کرتے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ایسے لوگ خود ساختہ طور پر اپنے لیے تشدد کا ایک جواز (justification) ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ بطور خود یہ خیال قائم کر لیتے ہیں کہ فلاں وجہ سے ان کے لیے تشدد کرنا جائز ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تشدد دکھا ہر جواز جھوٹا جواز ہے۔ کوئی فرد یا گروہ جب بھی تشدد کرتا ہے، عین اسی وقت اس کے لیے عدم تشدد یا پر امن طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں تشدد کیوں۔ جب تشدد کے بغیر عمل کرنے کا موقع موجود ہو تو تشدد کیوں کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد مطلق طور پر قابل ترک ہے اور امن مطلق طور پر قابل اختیار۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد نہ کرے، وہ ہر صورت حال میں پر امن طریقہ عمل پر قائم رہے۔ عداوت کے مسئلے کا حل بہت سے لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے۔ پھر اس مفروضہ کے تحت وہ اس قوم کے خلاف متشددانہ لڑائی چھیڑ دیتے ہیں تا کہ اس کی دشمنی کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ مگر یہ مفروضہ بھی غلط ہے اور اس مفروضہ کی بنیاد پر بنایا جانے والا نقشہ کا بھی غلط۔ دشمنی ہاتھ کی انگلی کی طرح انسانی وجود کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ وہ انسانی وجود کا ایک اوپری حصہ ہے۔ مثبت تدبیر کے ذریعہ ہر دشمنی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ دشمنی کی مثال ایسی ہے جیسے گلاس کے اوپر لگی ہوئی مٹی۔ ایسی مٹی کو نہایت آسانی کے ساتھ پانی سے دھو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader