نمونہ موجود نہیں
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ اسلامی شریعت میں طاقتور حالت (position of strength) کا ماڈل تو موجود ہے، مگر اسلام میں متواضع حالت (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ میں عرصہ تک یہ سوچتا رہا کہ مذکورہ مسلم رہنما کو اسلامی شریعت میں متواضع حالت کا ماڈل کیوں نہیں ملا۔ آخر کار یہ سمجھ میں آیا کہ مذکورہ مسلم رہنما (دورِ جدید کے دوسرے مسلم رہنماؤں کی طرح) شریعتِ اسلام کے نام سے صرف مدوّن فقہ کو جانتے تھے، یعنی وہ فقہ جو اس وقت تیار ہوئی جب کہ اہلِ اسلام ہر اعتبار سے طاقت اور اقتدار کی حالت میں تھے۔ اس بنا پر اس زمانے میں بننے والی اسلامی فقہ شعوری یا غیر شعوری طور پر، گویا طاقتوروں کی فقہ ہوگئی۔ وہ طاقت اور اقتدار کی حالت کی نمائندگی کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جب مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ اب وہ مطلق اقتدار سے محروم ہوگئے ہیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی شریعت انہیں ان کی متواضع حالت کے لیے کوئی مثبت رہنمائی نہیں دے رہی ہے۔ اس بنا پر موجودہ زمانے میں انہیں اس کے سوا کوئی اور کام نظر نہ آیا کہ وہ اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں سے لڑائی چھیڑ دیں۔ دورِ اقتدار میں مدوّن ہونے والی فقہ میں بلاشبہ یہ رہنمائی موجود تھی مگر دورِ اول میں جو قرآن اترا وہ بلاشبہ ابدی تعلیمات پر مشتمل تھا۔ اس میں ہر حالت کے لیے رہنمائی موجود تھی، جتنی کہ اس حالت کے لیے بھی جس کو مذکورہ مسلم رہنما نے متواضع حالت سے تعبیر کیا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ مسلمان ہمیشہ یکساں حالت پر نہیں رہیں گے۔ ان کو کبھی ایک حالت سے سابقہ پیش آئے گا اور کبھی دوسری حالت سے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دوسروں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تا کہ اللہ ایمان لانے والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا (3:140)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader