Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

صاف کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ کلاس میں مٹی کا لگنا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے پاس مٹی کو دھونے کے لیے صاف پانی نہ ہو۔ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے، ایک ہاتھ سے کبھی تالی نہیں بجتی۔ اسی طرح دشمنی ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کا دشمن بنے تو آپ خود اس کے دشمن نہ بنیں۔ اس کے بعد دشمنی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ دشمن کے ساتھ دشمنی نہ کرنا ہی دشمنی کے مسئلہ کا سب سے زیادہ کارگر عمل ہے۔ ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا گھر شہر کے ایک ایسے کنارے پر ہے جہاں سے غیر قوم کی آبادی شروع ہو جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ مجھے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ میں نے پیسہ خرچ کر کے اپنے گھر کے ہر فرد کے لیے لائسنس بنوایا اور پھر گھر کے ہر فرد کے نام گن اور ریوالور حاصل کر لیا۔ اب میں اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو محفوظ سمجھتا ہوں۔ اب مجھے دنگے اور فساد کا کوئی ڈر نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ تجارت کا اصول جانتے ہیں مگر آپ سماجی زندگی کے اصول کو نہیں جانتے۔ سماجی تحفظ کا ذریعہ گن اور ریوالور نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کا اصول یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لیے بہترین پڑوسی بن کر رہیں۔ آپ دوسروں کو اپنے شر سے بچائیں۔ اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اگر آپ دوسروں سے نفرت کریں تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو نفرت ملے گی اور اگر آپ کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہو تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت اور خیر خواہی کا تحفہ ملے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page